Tuesday, January 27, 2015

باطن

شيطان نے انسان کو اعمال سے روکنے کا ايک بہترين نسخہ سکھايا ہے۔
"جب تک انسان کا اندر )باطن( ٹھيک نہ ہو، عبادات اور نمازوں کا کوئی فائدہ نہيں۔ اس لیے پہلے اپنا اندر درست کرو ، پھر اللہ کی عبادت کرو۔"
يا يہ کہ "بس تمہارا دل صاف ہونا چاہئے، نمازيں تو لوگ پڑھ ہی ليتے ہيں"
بظاہر تو يہ بڑے دلکش جملے ہيں ليکن حق يہ کہ نماز، اذ کار، اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے سوا دل اور باطن کی اصلاح ممکن ہی نہیں۔
عبادات میں خلوص عبادت کرنے سے ہی آتا ہے، نہ کہ عبادت چھوڑنے کے بہانے سوچنے سے۔۔!!

Parents

Eraser: For what ? You didn't do anything wrong.

Pencil: I'm sorry, you get hurt because of me. Whenever I made a mistake, you're always there to erase it. But as you make my mistakes vanish, you lose a part of yourself and get smaller and smaller each time.

Eraser: That's true, but I don't really mind. You see, I was made to do this, I was made to help you whenever you do something wrong, even though one day I know I'll be gone. I'm actually happy with my job. So please, stop worrying I hate seeing you sad.

"Our Parents are like the eraser, where as we children are the pencil. They're always there for their children, cleaning up their mistakes. Sometimes along the way they get hurt and become smaller (older and eventually pass on) Take care of your Parents, treat them with kindness and most especially love them."

May Allah (Subhanahu Wa Ta'ala) grant our parents Jannah al Firdaws Ameen! :)

Sunnah Is To Put A Morsel Into Your Wife's Mouth With Your Own Hand

The Prophet (Peace.Be.Upon.Him) spoke beautiful words concerning the kind treatment of one’s wife, stating that when the husband feeds his wife and puts a morsel of food in her mouth, he earns the reward of doing an act of charity. He said, “You never spend anything but you will be rewarded for it, even the morsel of food that you lift to your wife’s mouth.” [Narrated by al-Bukhaari, 6352; Muslim, 1628]

دعا

دعا میں بڑی قوت ہوتی ہے، خالقِ حقیقی کو پکارنے میں عجیب لذت اور سرور ملتا ہے اندھروں سے اجالوں کی طرف سفر ہونے لگتا ہے ۔ مصیبتیں ٹل جاتی ہیں، آزمائشیں رحمتیں بن جاتی ہیں، خوف و ہراس قوت ِ ایمانی سے لبریز ہو کر یقین کی منزل پر پہنچنا ، اللہ کی رحمت و عنایت بن جاتا ہے ۔

سمیرا شریف طور کے ناول "ذرد موسم کے دکھ"سے اقتباس

بیٹیاں

ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو بیٹا پیدا ہوگا مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں ہوگئیں اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر لڑکی پیدا نہ ہو جائے شیطان نے اس کو بہکایا چناںچہ اس نے ارداہ کرلیا کہ اب بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ اس کی کج فہمی پر غور کریں بھلا اس میں بیوی کا کیا قصور۔

رات کو سویا تو اس نے عجیب وغریب خواب دیکھا اس نے دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جن کے سبب اس پر جہنم واجب ہوچکی ہے۔ لہٰذا فرشتوں نے اس کو پکڑا اور جہنم کی طرف لےگئے پہلے دروازے پر گئے۔ تو دیکھا کہ اس کی ایک بیٹی وہاں کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں جانے سے روک دیا۔ فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازے پر چلے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی جو اس کے لئے آڑ بن گئی۔ اب وہ تیسرے دروازے پر اسے لے گئے وہاں تیسری لڑکی کھڑی تھی جو رکاو ٹ بن گئی۔ اس طرح فرشتے جس دروازے پر اس کو لے کر جاتے وہاں اس کی ایک بیٹی کھڑی ہوتی جو اس کا دفاع کرتی اور جہنم میں جانے سے روک دیتی۔ غرض یہ کہ فرشتے اسے جہنم کے چھ دروازوں پر لے کر گئے مگر ہر دروازے پر اس کی کوئی نہ کوئی بیٹی رکاوٹ بنتی چلی گئی۔ اب ساتواں دروازہ باقی تھا فرشتے اس کو لے کر اس دروازے کی طرف چل دیئے اس پر گھبراہٹ طاری ہوئی کہ اس دروازے پر میرے لئے رکاوٹ کون بنے گا اسے معلوم ہوگیا کہ جو نیت اس نے کی تھی غلط تھی وہ شیطان کے بہکاوے میں آگیا تھا۔ انتہائی پریشانی اور خوف ودہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل چکی تھی اور اس نے رب العزت کے حضور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور دعا کی۔
اللھم ارزقنا السابعۃ
اے اللہ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما۔
اس لئے جن لوگوں کا قضا و قدر پر ایمان ہے انہیں لڑکیوں کی پیدائش پر رنجیدہ خاطر ہونے کی بجائے خوش ہونا چائیے ایمان کی کمزوری کے سبب جن بد عقیدہ لوگوں کا یہ تصور بن چکا ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش کا سبب ان کی بیویاں ہیں یہ سرا سر غلط ہے اس میں بیویوں کا یا خود ان کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ میاں بیوی تو صرف ایک ذریعہ ہیں پیدا کرنے والی ہستی تو صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے وہی جس کو چاہتا ہے لڑکا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے ایسی صورت میں ہر مسلمان پر واجب ہے اللہ تعالی کی قضا و قدر پر راضی ہو اللہ تعالی نے سورہ شوری میں ارشاد فرمایا ہے؛
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (50)
(ترجمہ)
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔

چھلی والا

وہ چھلی والا اب سبزی کی ریڑھی لگاتا ہے ۔ جس نے اپنے بچوں کو چھلیاں خرید کر نہ دے سکنے پر دوسرے بچوں کے لئے چھلی کی قیمت دس روپے لگائی تھی جب کہ ارد گرد بیس روپے کی چھلی فروخت ہو رہی تھی ۔
چند روز قبل میں یونہی چلتے چلتے اس چھلی والے کے سامنے رک گیا ۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھا ریڑھی پر دو تین لوگ سبزی خرید رہے تھے ۔ میں دیکھتا رہا ، ایک خاتون نے اس سے آلو خریدے ، ساتھ دھنیا مرچ بھی لی اور اسے پچاس کا نوٹ دیا اس نے آلو کے ساتھ از خود دھنیا مرچ مفت دی ۔
وہ آلو اٹھا کر پہلے یوں دیکھتا جیسے اس کا ایکسرے کر رہا ہو۔ گاہک کی نظر سے سبزی کو دیکھنا دوکاندار کے معاشی مفادات کے خلاف جاتا ہے لیکن وہ ہر ہر آلو کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اسے شاپنگ بیگ میں ڈالتا جا رہا تھا ۔ جس آلو پر کوئی معمولی ساداغ بھی ہوتا اسے ایک طرف کر دیتا ۔ جو آلو ٹھیک ہوتا صرف اسے ڈالتا ۔
اسی طرح ایک اور شخص نے ٹماٹر لیئے اس نے ٹماٹر بھی ویسے ہی دیکھ بھال کر اچھے اچھے دیئے ، اور معمولی نوعیت کی خرابی بھی اگر کسی ٹماٹر میں اسے محسوس ہوئی تو اسے ایک طرف کر دیا ۔ حالانکہ اس خرابی کو گاہک بھی تلاش نہ کرپاتا ۔
جب گاہک رخصت ہو چکے تو میں نے اس سے کہا کہ آپ ریڑھی مین روڈ پر کیوں نہیں لگاتے یہاں سائیڈ پر اور وہ بھی نسبتاً ایک ویران جگہ کا انتخاب آپ نے کیوں کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ مین روڈ پر ریڑھی کھڑی نہیں کرنے دی جاتی اور مختلف ٹیکسوں کی صورت میں اچھے خاصے اخراجات ہو جاتے ہیں۔ یہاں ویران جگہ ہے یہاں کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا اگر کسی دوکان کے سامنے لگاؤں تو پھر کرایہ الگ سے دینا پڑے گا ۔ یہاں کھڑا ہوں بس اللہ سے حلال رزق مانگتا ہوں تا کہ بچوں کے پیٹ کو حرام لقمے سے بچا سکوں ۔
میں نے اگلا سوال کیا کہ آپ کا اس ریڑھی کے علاوہ بھی کوئی ذریعہ آمدن ہے؟ اس نے کہا صبح منڈی میں کام کرتا ہوں گاڑیوں سے سبزی وغیرہ اتارتا ہوں ۔ صبح سویرے اس کام سے فارغ ہو کر اپنے لئے سبزی لیتا ہوں اور دن کو اس ریڑھی پر فروخت کر دیتا ہوں ۔ پچھلے سیزن میں مونگ پھلی لگا رکھی تھی اس سے پہلے ایک مرتبہ چھلی لگائی تھی ۔ رات کو ریڑھی گھر لے جا کرکھڑی کر دیتا ہوں ۔
میں نے پوچھا کہ اس قلیل آمدنی میں گزارا ہو جاتا ہے؟ اس نے کہا کہ قسم لے لیں اگر میں دس بیس روپے بھی شام کو گھر لے کر جاتا ہوں تو مذید پیسے آنے تک وہ مجھ سے ختم نہیں ہوتے ۔ خواہ مزید پیسے کتنے ہی دن بعد کیوں نہ آئیں ۔ اور کسی چیز کی قلت بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہے، وہ مجھ ناچیز کو بھی رزق دے رہا ہے ۔
میں نے پوچھا کہ یہ خراب آلو اور ٹماٹروں کا آپ کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ میں خود اور اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہوں ۔ کسی گاہک کونہیں دیتا ۔ اس سے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری بھی نہیں ہوتی اور میں بھی حرام کھانے سے بچ جاتا ہوں۔
میں اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگا تو میری نظر اس کے کپڑوں پر لگے پیوند پر جا کر رک گئی ، اس نے کپڑوں پر پیوند لگا رکھے تھے جنہیں خود سوئی دھاگہ لے کر سیا گیا تھا لگتا یوں تھا کہ کپڑے صاف مگر انتہائی بوسیدہ ہیں ۔ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں اس پیوند کو دیکھ لیا اور مسکرا کر کہنے لگا ۔ بھائی سچ کہوں، اگر ہم جیسے اس دنیا میں نہ ہوں تو رب کے حبیب ﷺکی اس سنت کو کون زندہ رکھے گا؟ اس نے یہ بات پیوند لگی جگہ کو ہاتھ میں پکڑ کر کہی ۔ میرے ليے ضبط مشکل ہو رہا تھا، میں نے سگریٹ سلگایا اور بوجھل قدموں سے دفتر کی جانب چل پڑا ۔ میرا دماغ الجھ کر رہ گیا ۔
میرا دل گواہی دینے لگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺکی ہر ہر سنت کو زندہ رکھنے پر قادر ہے ۔ مجھے وہ سارے فلسفے اس چھلی والے کے پیوند لگے کپڑوں سے بھی بودے لگنے لگے جن میں کہا جاتا ہےکہ اگر تم پیدا ہوتے وقت دولت مند نہیں تھے تو اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں اگر تم مرتے وقت دولتمند نہیں ہو تو اس میں ضرور تمہاری غلطی ہے ۔ اس چھلی والے نے اپنے کردار سے اس ساری فلاسفی کو ایک لایعنی مفروضہ بنا ڈالا ۔
میں سوچتا رہ گیا ۔ اس دور میں بھی پیوند لگے کپڑے پہننے والا مجھ سے بہت بلند اور عظیم تھا ، اس کے کپڑوں کے پیوند اس کے لئے نہیں مجھے اپنے ليے آزمائش لگنے لگے ۔ ان بوسیدہ کپڑوں سے اس چھلی والے کو نہیں، بلکہ ہم سب کو آزمایا جا رہا ہے جن کے کپڑوں پر کوئی پیوند نہیں لگا ہوا۔ یہ پیوند لگانے والے کے نہیں بلکہ ان معاشی فلاسفروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذمہ دار بھی ہیں اور کمزور طبقات کا دھڑلے سے استحصال بھی کرتے ہیں ۔
اس ریڑھی والے کی طرح اگر کامل یقین سے کوئی غربت کا عذاب خاموشی سے سہہ رہا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نبی کریم ﷺ کے معلمانہ اور کریمانہ اخلاق کے وسیلے سے اتنی قوت برداشت دی ہوئی ہے ۔ ورنہ وہ کبھی کا اخلاقی قدروں پر سمجھوتہ کر چکا ہوتا ۔
یہاں سید مودودی کا بیان بھی یاد کروا دیتے ہیں انہوں نے کارل مارکس کے کمیونزم پر تنقيد کرتے ہوئے ایک مقام پر کہا ہے کہ تاریخ کا دھارا کبھی دولت مندوں نے تبدیل نہیں کیا ۔ جب بھی تاریخی انقلاب یا کوئی بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے تو وہ بوریانشینوں کی وجہ سے آئی ، کارل مارکس کا عمل ہی کارل مارکس کی معاشی تھیوری کی نفی کے لیئے کافی ہے ۔ اپنی فلاسفی میں مارکس نے انسانی زندگی کی جدجہد کا اولین اور بنیادی مقصد معیشت کو قرار دیا لیکن عملی زندگی میں کارل مارکس نے معیشت کو مستحکم بنانے کے بجائے غربت کا انتخاب کیا ۔ کارل مارکس کوئی ریڑھی بان نہیں تھا بلکہ جرمن پارلیمنٹ میں جاگیرداروں کے نمائندے کا داماد تھا اس نے فلسفے میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کر رکھی تھی ۔
یہ ضرور ہے کہ اکثر انسانوں کے پیش نظر معاشی استحکام بنیادی ترجیح ہوتی ہے لیکن ان کا تاریخ میں اتنا شاندار کردار نہیں ہوتا جتنے شاندار کردار فقر تخلیق کرتا ہے ۔
اختتام پر ایک مغربی مفکر کا قول پیش کرتے ہیں غالباً گوئٹے نے کہا تھا کہ اگر تم کسی کے پاس دو کوٹ دیکھو تو جان لو کہ دوسرا کوٹ اس شخص کا ہے جس کے پاس کوئی کوٹ نہیں